بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1962 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صبح صادق کے بعد صلاۃ الاولیاء پڑھنا کیسا ہے؟
سوال : مجھ سے ایک بزرگ نے صلاۃ الاولیاء پڑھنے کو فرمایا تھا صرف صبح کا نام لیا تھا میں تفصیلی طور پر ان سے یہ دریافت نہ کرسکا کہ صبح کو کس وقت صبح صادق سے پہلے یا بعد میں پڑھی جائے. اس لئے دریافت طلب امر یہ ہے کہ صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے اگر پڑھی جائے تو کیا حرج ہے اس لیے کہ صبح صادق سے پہلے ناممکن نہیں تو دشوار ضرور ہے. تفصیلی طور پر ارشاد فرما کر مشکور فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ صلوۃ الاولیاء نماز نفل ہے اور صورت مستفسرہ میں نفل نماز رات میں صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے پڑھ سکتے ہیں. پھر بعد طلوع فجر طلوع آفتاب تک سوائے دو رکعت سنت فجر کے اور کوئی نفل نماز تحیۃ المسجد اور تحیۃ الوضو غیرہ جائز نہیں ۔ ( بہار شریعت) اور فتاوٰی عالمگیری میں ہے ” یکرہ فیہ التطوع باکثر من سنۃ الفجر ” واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ١٧٧
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ