بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1960 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نماز میں انگلی چٹکانا مکروہ تحریمی ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز کے درمیان انگلی چٹکانا کیسا ہے؟ سائلہ سروری احمد رام گڑھ جھارکھنڈ انڈیا۔ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب صورت مستفسرہ میں انگلی چٹکانا مکروہ تحریمی ہے فتاوی ھندیہ میں ہے: ” وَيُكْرَهُ أَنْ يُشَبِّكَ أَصَابِعَهُ وَأَنْ يُفَرْقِعَ. كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ " اھ ( جلد١ صفحہ١٠٦ کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الثاني ۔ دار الفکربیروت) بہار شریعت میں ہے :” انگلیاں چٹکانا، انگلیوں کی قینچی باندھنا یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا، مکروہ تحریمی ہے ” اھ (حصہ سوم ، مکروہات کا بیان جلد١ صفحہ٦٢٥) حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:” نماز میں انگلی چٹخانا گناہ وناجائز ہے "اھ (فتاویٰ رضویہ مترجم جلد اول حصہ ب صفحہ ١٠٢٢) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ