لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نماز میں انگلی چٹکانا مکروہ تحریمی ہے از مفتی صدام حسین فیضی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نماز میں انگلی چٹکانا مکروہ تحریمی ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز کے درمیان انگلی چٹکانا کیسا ہے؟ سائلہ سروری احمد رام گڑھ جھارکھنڈ انڈیا۔ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب صورت مستفسرہ میں انگلی چٹکانا مکروہ تحریمی ہے فتاوی ھندیہ میں ہے: ” وَيُكْرَهُ أَنْ يُشَبِّكَ أَصَابِعَهُ وَأَنْ يُفَرْقِعَ. كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ " اھ ( جلد١ صفحہ١٠٦ کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، الفصل الثاني ۔ دار الفکربیروت) بہار شریعت میں ہے :” انگلیاں چٹکانا، انگلیوں کی قینچی باندھنا یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا، مکروہ تحریمی ہے ” اھ (حصہ سوم ، مکروہات کا بیان جلد١ صفحہ٦٢٥) حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:” نماز میں انگلی چٹخانا گناہ وناجائز ہے "اھ (فتاویٰ رضویہ مترجم جلد اول حصہ ب صفحہ ١٠٢٢) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات