صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1959 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کیاولد الزنا شریف النسب عورت کا کفو ہوسکتا ہے؟ مفتی صدام حسین فیضی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 6,375

سوال (Question):

کیاولد الزنا شریف النسب عورت کا کفو ہوسکتا ہے؟ مفتی صدام حسین فیضی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیاولد الزنا شریف النسب عورت کا کفو ہوسکتا ہے؟

سوال :ولدالزنا شریف النسب عورت کاکفو ہو سکتاہے یانہیں وضاحت فرمادیں۔ المستفتی قطب الحسن نظامی نیپال متعلم جامعةالمدینہ فیضان صدیق اکبر آگرہ انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں لڑکے کا ولد الزنا ہونا مشہور ہوتو وہ شریف النسب عورت کا کفو نہیں ہوسکتا کہ اس سے شریف النسب عورت کا نکاح کرنا اس کے اولیاء کے واسطے باعث ننگ وعار ہے ۔ اعلی حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:” شک نہیں کہ جس کا ولد الزنا ہونا مشہور ہو اس سے دختر حلال کا نکاح عرفا باعث ننگ وعارو انگشت نمائی ہوتاہے اور یہی معنی عدم کفاءت کے ہیں” اھ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد١١ صفحہ ٧٢٧ کتاب النکاح باب الکفو ) علامہ محمد امین ابن عابدین شامی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :” ان الموجب ھو استنقاص اھل العرف فیدور معہ ” اھ ( ردالمحتار علی الدر المختار ج٤ ص٢١٦ کتاب النکاح باب الکفأۃ، دار عالم الکتب) یعنی اھل عرف کا حقیر جاننا سبب ہے لہذا حکم کا مدار اسی پر ہے۔ والله تعالى اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat