دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1958
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,269
سوال (Question):
کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ نیاز احمد نے اپنی مدخولہ بیوی کے متعلق ہندی میں دو طلاق لکھوا کر ایک شخص کے سپرد کیا ۔ پھر اس کاغذ پر نیاز احمد کی اجازت کے بغیر ایک آدمی نے اپنی طبیعت سے ایک طلاق اور بڑھا کر تین طلاق کردیا تو اس صورت میں نیازاحمد کی بیوی پر کتنی طلاق پڑی ؟ نیاز احمد اپنی بیوی کو پھر رکھنا چاہتا ہے ۔ بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں نیاز احمد کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوئی۔ یعنی عدت کے اندر نیاز احمد اگر کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رات کر لی یا اس سے میاں بیوی جیسا برتاؤ کر لے تو وہ حسب سابق اس کی بیوی رہے گی نکاح کی حاجت نہیں۔ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے : الطلاق مرتن فامساك بمعروف أو تسريح بإحسان.” (٢ع١٣)اور اگر عدت گزر گئی ہو تو عورت کی مرضی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔ حلالہ کی ضرورت نہیں۔ والله تعالى اعلم. كتبه: جلال الدين احمد الامجدي.
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat