بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1953 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
زبردستی طلاق کے پیپر پر دستخط کرائی گئی تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید شراب پیتا ہے اور اپنی بیوی کو مارتا ہے تو بیوی کے چند رشتہ داروں نے زید سے طلاق کا مطالبہ کیا اس نے کہا ہم طلاق نہیں دیں گے تو مار پیٹ کر ایک سادہ کاغذ پر دستخط کرایا۔ اور اس پر بیوی کی طرف سے طلاق دینا لکھا گیا۔ زید کا بیان ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے۔ صرف مار کے خوف سے سادہ کاغذ پر دستخط کر دیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں زید کی بیوی کو طلاق پڑی یا نہیں ؟ بینوا توجروا الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں اگر اکراہ شرعی پایا گیا یعنی زید کو کسی عضو کے کاٹے جانے یا ضرب شدید کا صحیح اندیشہ ہو گیا تھا اور اس صورت میں اس نے سادہ کاغذ پر یہ جانتے ہوئے دستخط کر دیا اس پر ہماری طرف سے طلاق لکھی جائے گی لیکن اس نے نہ طلاق کی نیت کی اور نہ زبان سے طلاق دی تو وہ واقع نہیں ہوئی ۔ اور اگر اکراہ شرعی کے بغیر سادہ کاغذ پر دستخط کردیا یہ جانتے ہوئے کہ اس پر ہماری طرف سے ہماری بیوی کو طلاق لکھی جائے گی تو اس صورت میں طلاق پڑگئی ۔ فتاویٰ قاضی خان مع ہندیہ جلد اول صفحہ ٤٤١ میں ہے : ” رجل اكره بالضرب والحبس علي ان يكتب طلاق امراته فلانة بنت فلان فكتب امراته فلانة بنت فلان طالق لا تطلق امراته لان الكتابه مقام العبارة باعتبار الحاجة ولاحاجة ههنا.” اور کنز الدقائق میں ہے :” يقع طلاق كل زوج عاقل بالغ ولو مكرها. ” بحر الحرائق ميں ہے :” قوله ولو مكرها أي ولو كان الزوج مكرها علي انشاء الطلاق لفظا. والله تعالى اعلم. كتبہ : مفتی جلال الدين احمد الامجدي
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ