بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1949 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
غسل کرتے وقت کلمہ درود شریف پڑھنا کیسا ہے؟
الجوابــــــــــــــــــ غسل کرتے وقت کلمہ ،درود شریف پڑھنا منع اور خلاف سنت ہے کہ اس وقت کسی قسم کا کلام کرنے اور دعا پڑھنے کی بھی اجازت نہیں. حضور صدر الشریعہ علیہ الرضوان تحریرفرماتے ہیں ” غسل میں سنت یہ ہے کہ کسی قسم کا کلام نہ کرے نہ کوئی دعاپڑھے ۔ (بہار شریعت حصہ دوم ص٣٧) اور حضرت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں‘‘ قال شرنبلالی ویستحب ان لا یتکلم بکلام مطلقا اما کلام الناس فلکراھۃ حال الکشف واما الدعاء فلانہ فی منصب المستعمل ومحل الاقذار والاوحال ١ھ. شامی جلد اول صفحہ 15. ایسا ہی فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 14 میں بھی ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــــہ : مفتی محمد اویس القادری امجدی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ