بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1947 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بینک ایجنٹ کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کی زید امام ایک بینک کا ایجنٹ ہے اور بینک اس کو کمیشن دیتی ہے تو کیا صورت مذکورہ میں زید امام کی اقتداء درست ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں اگر زید کو ناجائز کام نہ کرنا پڑے تو اسے بینک کا ایجنٹ بننا جائز ہے کام کرنے کی جو اجرت ملے وہ اجرت بھی زید کے لیے حلال ہے. اعلی حضرت امام احمد رضا برکاتی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں” کہ جس ملازمت میں خود ناجائز کام کرنے پڑے جیسے یہ ملازمت جس میں سود کا لین دین اس کا لکھنا پڑھنا تقاضہ کرنا اس کے ذمہ ہو ایسی ملازمت خود حرام ہے اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے وہ مال حلال بھی اس کے لیے حرام ہے اور مال حرام ہے تو حرام در حرام. ١ھ. (فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 173) لہذا زید امام کے اندر بینک کی ملازمت کے علاوہ کوئی اور وجہ شرعی مانع نہ ہو تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہے۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد نیاز برکاتی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ