لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا مغرب میں تاخیر کرنا مکروہ ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا مغرب میں تاخیر کرنا مکروہ ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں رمضان میں مغرب کی اذان کے دس منٹ بعد افطار اور کھانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے کیا مغرب کی اذان کے بعد اتنی تاخیر جائز ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ نماز مغرب میں دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی اور بغیر عذر اتنی تاخیر کی کہ ستارے گتھ جائیں مکروہ تحریمی ہے. سفر میں ہو یا بھوکا ہو اور اگر کھانا سامنے حاضر ہو تو یہ تاخیر کے لئے عذر ہے. در مختار میں ہے” واخر المغرب الی اشتباک النجوم) ای کثرتھا (کرہ) ای التاخیر لاالفعل لانہ مامور بہ (تحریما) الا بعذر کسفر وکونہ علی اکل ١ھ. رد المحتار میں ہے ” وان مافی القنیۃ من اشتباک النجوم مکروہ تنزیھا وما بعدہ تحریما الا بعذر ١ھ ”(ص ٣٦٩ ج ١ ) ایسا ہی بہار شریعت صفحہ 20 جلد 3 میں بھی ہے تاہم دس منٹ سے زیادہ تاخیر سے گریز کرنا چاہئے. واللہ تعالیٰ اعلم. الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد ابو بکر مصباحی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات