صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1943 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 8,178

سوال (Question):

طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟

مسئلہ: از: انعام علي خان ، بھدرک ، اڑیسہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین مسئولہ ذیل میں کہ زید ایک تعلیم یافتہ انسان ہے جو کہ سرکاری نوکری کرتا ہے زید کا چچازید پر بڑا مہربان ہے اس طرح سے کہ زید کو نوکری چچا نے دلوایا شادی کرایا گویا کی ماں باپ سے زیادہ مہربان ہے۔ زید کی شادی چند سال پہلے ہندہ سے ہوئی تھی جب زید اپنے تعطیل کے ایام گزارنے کے لئے اپنے سسرال کو جانے لگا تو اس وقت زید کے چچا کی چھوٹی لڑکی بضد ہوکر زید کے سسرال گئی یہ لڑکی وہاں جاکر زید کے سالے کے ساتھ عشق بازی کرنے لگی نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے زید کےسالے کے ساتھ نکاح کیا ۔ اس نکاح سے زید کے چچا اور تمام گھرانے والے ناراض تھے۔ زید ،چچا اور تمام گھرانے والے کی بے انتہا کوشش کے باوجود لڑکی کو واپس نہ لا پائے۔ اس کوشش میں طرفین کی بےعزتی بھی ہوئی۔ اب انتقام لینے کے لیے زید کے چچا نے محرر سے یک طلاق نامہ لکھوایا اور زید کو دستخط کرنے کو کہا زید اپنے مہربان چچا کی بات کو ٹال نہ سکا اور دستخط کردیا۔ اس طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے بعد زید اپنی بیوی ہندہ کو گھر پھر لے آیا اور ازدواجی زندگی گزارنے لگا۔ جس طلاق نامہ پر دستخط کیا اس میں تحریر تھی ۔ ” میں جان بوجھ کر صحیح عقل سے سوچ کر بغیر زبردستی کے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق طلاق طلاق دیا اور آئندہ کے لئے میرا ہندہ پر اور ہندہ کا مجھ پر کوئی حق باقی نہ رہا ۔” اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید پر شریعت کا کون سا حکم نافذ ہوتا ہے بحوالہ کتب جواب عنایت کریں۔ بینوا توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــــ مکرو فریب کچہری میں چل سکتا ہے ۔شریعت مطہرہ میں ہرگز نہیں چلے گا۔ سوال سے ظاہر ہے کہ زید کو تحریر کا وہ حصہ نہیں دکھایا گیا جہاں اس کی بیوی کے متعلق طلاق کے الفاظ تھے ۔ اور نہ خود اس نے طلاق کے جملے دیکھے اور نہ اسے بتایا گیا کہ تمہاری بیوی کے متعلق طلاق نامہ ہےاور زید نے طلاق نامہ سمجھ کر اس پر دستخط کئے تو اس کی بیوی پر طلاق نہیں واقع ہوئی۔ لہذا اگر صورتحال یہی ہے تو زید دستخط کرنے کے بعد اپنی بیوی ہندہ کو پھر اپنے گھر لا کر ازدواجی زندگی گزار رہا ہے تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم۔ ماخوذ : از فتاوی فقیہ ملت جلد دوم / طلاق کے مسائل

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat