دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1941
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,965
سوال (Question):
سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ امام سے نماز میں بھول سے واجبات چھوٹ گئے اب امام نے بھول سے سجدۂ سہو بھی کرنا بھول گیا اور سلام پھیر دیا تو اب کیا کرے نماز پھر سے دہرائے یا کیا کرے تسلی بخش جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں ۔ سائل : ابوالکلام قادری جھارکھنڈ کوڈرما ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب اگر بھول کر سلام پھیر دیا اور حرمت نماز میں ہے یعنی کوئی ایسی چیز نہیں کی ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اور سلام پھیرتے ہی فورا اسے یاد آ گیا کہ سجدہ سہو نہیں کیا ہے تو سجدہ سہو کرے پھر تحیات وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔ اور اگر حرمت نماز میں نہیں ہے یعنی کوئی ایسا کام کر لیا ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو اب نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ درمختار میں ہے : ” ويسجد للسهو ولو مع سلامه ناويا للقطع لان نية تغيير المشروع لغو مالم يتحول عن القبلة او يتكلم لبطلان التحريمة ولو نسى السهو أوسجدة اصلبية اوتلاوية يلزمه ذلك مادام في المسجد۔ ( باب سجود السهو ج ۲ ص۹۱) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبــــہ :محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال ۵ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز اتوار
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat