بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1939 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سردی میں جو ٹوپی پہنی جاتی ہے اسے پہن کر نماز پڑھنا کیسا؟
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ سردی میں ٹوپا کی وجہ سے پیشانی زمین پر نہیں لگتی ۔ بلکہ پیشانی ٹوپا میں رہتی ہے ۔اور زمین پر صرف ٹوپا ہوتا ہے ۔۔ ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہے ۔ جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں ۔ سائل جابر رضا رامپوری وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب سردی کے موسم میں جو ٹوپی پہنی جاتی ہے وہ اگر موٹی اور نرم ہو تو وہ دبتی رہتی ہے، اس لیے نماز کے وقت خاص طور پر اس کا خیال رکھا جائے کہ ایسی ٹوپی پیشانی سے اوپر کرلی جائے۔ البتہ اس کا کچھ حصہ پیشانی پر آرہا ہوتو سجدہ کے وقت پیشانی کو اچھی طرح دبا کر سجدہ کیا جائے تاکہ پیشانی اچھی طرح جم جائے۔۔ بہار شریعت میں ہے: کسی نرم چیز مثلاً گھاس، روئی، قالین وغیرہا پر سجدہ کیا تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (حوالہ ج۱ ح۳ ص۵۱۵ مکتبہ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبــــہ : محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال ۲ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز بدھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ