بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1935 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مقتدی کے بے محل آمین کہنے کا حکم
سوال :اگر امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ کے اندر یا آگے آنے والی سورۃ کے بعد زبان سے قصد یا سہوا آمین نکل جائے تو کیا حکم شرعی ہوگا۔ الجوابــــــــــــــــــــــ مقتدی نے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کے اندر یا کسی دوسری سورت میں کسی جگہ سہواً یا قصداً آمین کہا تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔ہاں! اگر نماز سے باہر کسی نے دعا کی اور اس کے جواب میں "آمین” کہا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ رد المحتار میں ہے: "فِي الذَّخِيرَةِ: إذَا أَمَّنَ الْمُصَلِّي لِدُعَاءِ رَجُلٍ لَيْسَ فِي الصَّلَاةِ تَفْسُدُ صَلَاتُهُ”۔ (رد المحتار ج٢ ص٣٧٩) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٩/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٣١/جنوری ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ