صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1930 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

مچھلی کی تجارت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ از علامہ کمال احمد علیمی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 8,495

سوال (Question):

مچھلی کی تجارت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ از علامہ کمال احمد علیمی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مچھلی کی تجارت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ از علامہ کمال احمد علیمی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلۂ ذیل میں مچھلی کی تجارت پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟ المستفتی : مولانا اختر حسین قادری الجواب بعون الملک الوھاب مچھلی کی پرورش اگر بطور تجارت ہو اور وہ بقدر نصاب ہو یا دیگر اموالِ تجارت یا سونا یا چاندی یا کرنسی نوٹ کے ساتھ مل کر بقدر نصاب ہو اور ادائیگی زکوٰۃ کی شرطیں بھی پائی جائیں تو اس پر زکوٰۃ ہے جیسا کہ ہر سامان تجارت پر زکوٰۃ ہے. قرآن مجید میں ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ (البقرۃ :٢٦٧) اس کی تفسیر کرتے ہوئے امام نسفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: ﴿يا أيُّها الَّذِينَ آمَنُوا أنْفِقُوا مِن طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ﴾ مِن جِيادِ مَكْسُوباتِكم. وفِيهِ دَلِيلُ وُجُوبِ الزَكاةِ في أمْوالِ التِجارَةِ” درمختار میں ہے : أو في عرض التجارة قیمتہ نصاب (٢/ ٢٩٩ ، کتاب الزکاة) بدائع الصنائع میں ہے: “(ومنها) كون المال ناميًا؛ لأن معنى الزكاة وهو النماء لايحصل إلا من المال النامي و لسنا نعني به حقيقة النماء؛ لأن ذلك غير معتبر وإنما نعني به كون المال معدًّا للاستنماء بالتجارة أو بالإسامة؛ لأن الإسامة سبب لحصول الدر والنسل والسمن، والتجارة سبب لحصول الربح فيقام السبب مقام المسبب.”(٢/ ١١) اسی میں ہے : “وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة.”(٢/ ٢٠) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یکم رجب ١٤٤٣/ ٣ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat