دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1922
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیا ناپاک کپڑا ماء مستعمل سے پاک ہو جاتا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,343
سوال (Question):
کیا ناپاک کپڑا ماء مستعمل سے پاک ہو جاتا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا ناپاک کپڑا ماء مستعمل سے پاک ہو جاتا ہے؟
سوال : زید کہتا ہے کہ ماء مستعمل سے ناپاک کپڑا پاک کیا جاسکتا ہے اور بکر کہتا ہے کہ مائے مستعمل سے کپڑے کی صرف وہ نجاست دور کی جاسکتی ہے جو سوکھنے پر نظر آتی ہے. تو ان دونوں میں سے کس کا قول صحیح ہے؟ بینوا و توجروا. الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ زید کا قول صحیح ہے بے شک ماء مستعمل سے ہر ناپاک کپڑا پاک کیا جاسکتا ہے خواہ کیسی بھی نجاست لگی ہو نہ کہ صرف وہ نجاست دور کی جاسکتی ہے جو سوکھنے پر نظر آئے. ہاں اس سے صرف وضو اور غسل نہیں کیا جا سکتا. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 264 کے حاشیہ اور بہار شریعت جلد دوم صفحہ 102 پر ہے. اور تنویر الابصار مع در مختار علی فوق رد المحتار جلد اول صفحہ 309 پر ہے. ” یجوز دفع نجاسۃ حقیقیۃ عن محلھا بماء ولو مستعملا ” ١ھ. اور فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ٤١ پر ہے ” یجوز تطھیر النجاسۃ بالماء وبکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ ومن المائعات الماء المستعمل وعلیہ الفتوی ١ھ ملخصا. اور بکر کا قول صحیح نہیں وہ توبہ کرے کہ اس نے بے علم فتوی دیا. حدیث شریف میں ہے ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء والارض ” یعنی جس نے بے علم فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے ملائکہ لعنت کرتے ہیں( کنز العمال جلد 10 صفحہ 193) واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی عبد المقتدر نظامی مصبـــــــــــاحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat