لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

محض نکاح کے رجسٹر پر دستخط کرنےسے نکاح نہیں ہوسکتا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

محض نکاح کے رجسٹر پر دستخط کرنےسے نکاح نہیں ہوسکتا

سوال :کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام ومفتیان شرع متین مسٸلہ ذیل میں کہ ایک لڑکی کے گھر چند لوگ آتنگوادی بنکررات میں آئے اور لڑکی کے ماں باپ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی پھر لڑکی کو اپنے ساتھ لےگئے ٢٥دن بعدلڑکی کا پتہ چلا جب لڑکی سے ماں باپ کی ملاقات ہوئی اس نے کہا میرے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے مجھے ان سے بچالو ۔ جب لڑکی اور لڑکے کو پولیس والے کورٹ میں لیگئے تو جج کے سامنے لڑکی نے لڑکے کے خلاف بیان دیا لڑکا اب جیل میں ہے ۔ جب نکاح کے بارے میں پوچھا تو لڑکی نے کہا مجھے ایک کمرے میں بند کردیا اور چار پانچ آدمی آئے ان میں ایک مولوی تھا اس نے اپنے منہ پررومال رکھا ہوا تھا مجھ سے کہا اس لڑکے کے ساتھ نکاح پڑھو لڑکی نے کہا مجھے مار ڈالو میں نکاح نہیں پڑھوں گی پھر ان لوگوں نے کہا ہم تمہیں بیچ دیں گے چلو نکاح نہیں پڑھتی تو نہ پڑھ اس رجسٹر پر دستخط کردے لڑکی نے ڈر کے مارے نکاح کے رجسٹر پر دستخط کردی لڑکی اب ماں باپ کے گھر پر ہے ایک دوسری جگہ سے اس کا رشتہ آرہاہے تو کیا اس کا پہلا نکاح ہوا یا نہیں کیا دوسری جگہ نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماٸیں عین نوازش ہوگی ۔ المستفتی محمد اقبال بنڈی ضلع راجوری جموں و کشمیر انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی اگر واقعی ھندہ نے زبان سے قبول نہیں کیا ہے بلکہ صرف نکاح نامہ پر دستخط کیا ہے تو نکاح منعقد نہیں ہوا کہ زبر دستی نکاح کرنے کی صورت میں زبانی قبول کرنا ضروری ہے فعلا قبول کرنے سے انعقاد نکاح نہیں ہوتا کما فی الدرالمختار : ” وصح نکاحہ و طلاقہ وعتقہ لو بالقول لا بالفعل ” اھ (جلد٩ صفحہ٢٣١، کتاب الاکراہ) اور اس وجہ سے بھی کہ مُکْرَہ (مجبور)جب مُکْرِہ (مجبور کرنے والے)کا آلہ بن سکے تو مُکْرَہ ( مجبور) کے کام کی نسبت مُکْرِہ (مجبور کرنے والے) کی طرف ہوگی اور یہاں یہی صورت ہے یعنی لڑکی مجبور کرنے والے کے لکھنے کاآلہ بن سکتی ہے تو لڑکی کے لکھنے ( دستخط کرنے) کی نسبت مجبور کرنے والے کی طرف ہوگی اس لئے لڑکی کا دستخط کرنا اس کی جانب سے اذن نکاح نہ ہوا ۔ نور الانوار میں ہے : ” لا ینافی الاکراہ اختیار المکرہ بالفتح لکن الاختیار فاسد فاذا عارضہ اختیار صحیح وھو اختیار المکرہ بالکسر وجب ترجیح الصحیح علی الفاسد ان امکن کما فی الاکراہ علی القتل واتلاف المال حیث یصلح المکرہ بالفتح ان یکون آلۃ للمکرہ بالکسر فیضاف الفعل الی المکرہ بالکسر و یلزمہ حکمہ ” اھ ( نور الانوار جلد٢ صفحہ٢١١ باب القیاس ، بیان الاکراہ واقسامہ ، مکتبۃ البشری)۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات