لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

بتوں کی تجارت کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بتوں کی تجارت کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مورتی اور ہندوؤں کے بت یا بدھا کی مورتی کی تجارت کی جا سکتی ہے عند الشرع حکم کیا ہے؟ المستفتی:عبدالرزاق باندرا برج آنند گجرات۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب بت کی تجارت ناجائز وحرام ہے خواہ ہندوؤں کا ہو ا یا کسی اور قوم کا اور اس سے حاصل ہونے والا مال بھی خبیث وحرام ہے. حدیث شریف میں ہے"عن جابر بن عبد ﷲ رضی اللہ عنہما انہ سمع رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یقول عام الفتح وھو بمکۃ ان ﷲ ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر والاصنام ۔ فقیل یا رسول ﷲ ارایت شحوم المیتۃ فانھا یطلی بھا السفن ویدھن بھا الجلود ویستصبح بھا الناس فقال لا ھو حرام ۔ ثم قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم عند ذالک قاتل ﷲ الیھود ان ﷲ لما حرم شحومھا جملوہ ثم باعوہ فاکلوا ثمنہ”اھ (صحیح البخاری ج١ص٣٩٤،کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام،مکتبہ رحمانیہ) ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور اس وقت آپ مکہ میں تھے کہ ﷲ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام کردیا ہے ۔ آپ سے پوچھا گیا یا رسول ﷲ! مردار کی چربی کے متعلق بتائیں کیونکہ اس کو ہم اپنی کشتیوں پر ملتے ہیں اور اس کا تیل کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے اپنے چراغ جلاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا نہیں وہ حرام ہے ۔ اللہ یہود پر لعنت کرے جب ﷲ نے ان پر مردار کی چربی حرام کی تو انہوں نے اس کو پگھلا کر فروخت کیا پھر اس کی قیمت کھائی. عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے"والاجماع قائم علی انہ لایجوز بیع المیتۃ والاصنام لانہ لایحل الانتفاع بھا ووضع الثمن فیھا اضاعۃمال وقد نھی الشارع عن اضاعتہ قلت علی ھذا التعلیل اذا کسرت الاصنام وامکن الانتفاع برضاضھا جاز بیعھا عند بعض الشافعیۃ وبعض الحنفیۃ” اھ  (ج١٢ص٥٥،کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام،مطبہ: دار الفکر) بلکہ ان کی تجارت میں ایک طرح سے ترویج کفر پر اعانت کرنا ہے ارشاد باری تعالی ہے” تعاونوا علی البر والتقوى و لا تعاونوا علی الاثم والعدوان”(سورۃ المائدۃ،الا’یۃ:٢) نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو. وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی / ١٨جمادی الثانی ١٤٤٣ھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات