بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1909 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟
سوال :مٹی دینے کے بعدقبر پر پانی ڈالناکیسا ہے ؟ اس کی وجہ کیا ہے جواب عنایت فرمائیں؟ المستفتی:محمد رضا بلرام پور بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے ۔ حدیث شریف میں ہے "عن ابی رافع قال:سل رسول ﷲ سعدا ورش علی قبرہ ماءً، اھ(شرح ابن ماجہ للسندی ج٢ص٢٤٢باب ماجاء فی إدخال المیت القبر،الحدیث:١٥٥١) حضرتِ ابو رافع سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرتِ سعد ابن معاذ رضی ﷲ عنہ کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا. فتاوی شامی میں ہے"عن جعفربن محمد عن ابیہ ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم رشّ علی قبرابنہ ابراھیم ووضع علیہ حصباء ،وھو مرسل صحيح” اھ(ج٣ص١٣٣ کتاب الصلاۃ، مطلب فی دفن المیت) حضرتِ جعفربن محمد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر سنگریزے رکھے یہ حدیث مرسل صحیح ہے. در مختار مع ردالمحتار میں ہے” ولابأس برشّ الماء علیہ بل ینبغی ان یندب لانہ صلی اللہ علیہ وسلم فعل بقبر سعد کما رواہ ابن ماجہ وبقبر ولدہ ابراہیم کما رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ وأمر بہ فی قبر عثمان بن مظعون کما رواہ البزار” اھ(ج٣ص١٣٤،کتاب الصلاۃ،مطلب فی دفن المیت) نیز فتاوی رضویہ ج٤ص١٨٥ بھی ملاحظہ فرمائیں. وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٦جمادی الثانی ١٤٤٣
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ