بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1908 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
غلہ تاجروں کاناپ سے کچھ زیادہ لینا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غلہ کی خریداری کرنے والے جب چاول، گندم، مسور وغیرہ لیتے ہیں تو ہر پچاس کلو والے بوری میں سات سو پچاس گرام( 750)زائد کرکے لیتے ہیں جب صاحب دوکان سے کہو کہ سات سو پچاس گرام(750)ریادہ کیوں لیتے ہو تو جواب دیتے ہیں کہ یہ غلہی دوکان کرنے والوں کا سسٹم ہے کیا یہ اصول بیع وشراء سے ہے شرعی طریقہ کیا ہے بینوا بالدليل وتوجروا. المستفتی: عبد المصطفي شیوراج نگرپالیکا 4 چنی ضلع کپل وستو تولہوا نیپال. بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب۔ صورت مستفسرہ میں غلہ خریدنے والے پچاس کلو پر جو سات سو پچاس گرام(750) یا ایک کلو زیادہ کرکے لیتے ہیں غلے کی ماپ، تول کرنے کی اجرت ہوتی ہے اور ماپ، تول کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے اور یہ سامان بیچنے والے کے ہی ذمہ ہوتی ہے جس کا تاجروں کے یہاں عام رواج بھی ہے لہذا اس طرح وزن مذکورہ کی زیادتی کے ساتھ بیچنا اور خریدنا دونوں جائز اور موافق شرع ہے. درمختار میں ہے"واجرۃ کیل ووزن وعدّ وذرع علی بائع لانہ من تمام التسلیم” اھ (ج٧ص٩٣،کتاب البیوع) بہار شریعت میں ہے”بیع کے ماپ، تول یا گنتی کی اجرت دینی پڑے تو وہ بائع کے ذمہ ہوگی کہ ماپنا، تولنا، گننا اس کا کام ہے کہ مبیع کی تسلیم اسی طرح ہوتی ہے کہ ماپ، تول کر مشتری کو دیتے ہیں”اھ (ح١١ص٦٣٨، کتاب البیوع،مکتبۃ المدینہ) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٩جمادی الثانی ١٤٤٣ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ