دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1908
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
غلہ تاجروں کاناپ سے کچھ زیادہ لینا ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,887
سوال (Question):
غلہ تاجروں کاناپ سے کچھ زیادہ لینا ؟ از مفتی ارشد حسین فیضی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
غلہ تاجروں کاناپ سے کچھ زیادہ لینا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غلہ کی خریداری کرنے والے جب چاول، گندم، مسور وغیرہ لیتے ہیں تو ہر پچاس کلو والے بوری میں سات سو پچاس گرام( 750)زائد کرکے لیتے ہیں جب صاحب دوکان سے کہو کہ سات سو پچاس گرام(750)ریادہ کیوں لیتے ہو تو جواب دیتے ہیں کہ یہ غلہی دوکان کرنے والوں کا سسٹم ہے کیا یہ اصول بیع وشراء سے ہے شرعی طریقہ کیا ہے بینوا بالدليل وتوجروا. المستفتی: عبد المصطفي شیوراج نگرپالیکا 4 چنی ضلع کپل وستو تولہوا نیپال. بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب۔ صورت مستفسرہ میں غلہ خریدنے والے پچاس کلو پر جو سات سو پچاس گرام(750) یا ایک کلو زیادہ کرکے لیتے ہیں غلے کی ماپ، تول کرنے کی اجرت ہوتی ہے اور ماپ، تول کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے اور یہ سامان بیچنے والے کے ہی ذمہ ہوتی ہے جس کا تاجروں کے یہاں عام رواج بھی ہے لہذا اس طرح وزن مذکورہ کی زیادتی کے ساتھ بیچنا اور خریدنا دونوں جائز اور موافق شرع ہے. درمختار میں ہے“واجرۃ کیل ووزن وعدّ وذرع علی بائع لانہ من تمام التسلیم” اھ (ج٧ص٩٣،کتاب البیوع) بہار شریعت میں ہے”بیع کے ماپ، تول یا گنتی کی اجرت دینی پڑے تو وہ بائع کے ذمہ ہوگی کہ ماپنا، تولنا، گننا اس کا کام ہے کہ مبیع کی تسلیم اسی طرح ہوتی ہے کہ ماپ، تول کر مشتری کو دیتے ہیں”اھ (ح١١ص٦٣٨، کتاب البیوع،مکتبۃ المدینہ) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٩جمادی الثانی ١٤٤٣ھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat