بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1903 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں اگر عورتوں کے ناخن پر ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو یا غسل ہوگا یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ عورتوں کے ناخن پر لگی ہوئی ناخن پالش اتنی گاڑھی ہوتی ہے کہ اس کی ایک تہہ ناخن پر جم جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی ناخن تک سرایت نہیں کرتا اس لئے وضو اور غسل کرتے وقت اگر وہ ناخن پر لگی رہ گئی اور اس کو چھڑایا نہیں تو نہ وضو ہوگا اور نہ ہی غسل ہوگا. رہی مہندی تو ناخن پر اس کی کوئی تہہ نہیں جمتی بلکہ صرف اس کا رنگ چڑھ جاتا ہے یہ مانع وضو اور غسل نہیں. اگر ہاتھ یا پاؤں پر اس کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو اور غسل ہوجائے گا مگر جب معلوم ہو جائے تو اسے چھوڑا کر وہاں پانی بہا دے. اسی طرح حاشیہ فتاوی رضویہ جلد 1 صفحہ 14 پر ہے. درِ مختار میں ہے ” لا یمنع الطھارۃ خرء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ وحناء ولو جرمہ بہ یفتی ” (فوق رد المحتار ج١، ص 154 ،کتاب الطھارۃ) واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی مصباحی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ