بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1889 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
داڑھی کو مہندی سے لال کر سکتے ہیں یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ داڑھی کو مہندی لگا کر لال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ وہ مہندی جو ہاتھوں پر لگائی جاتی ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب سے نوازیں. عنایت ہوگی. الجوابـــــــــــــــــــــــــ منہدی سے داڑھی سرخ کرنا جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن ہے. حدیث شریف میں ہے ” غيروا هذا بشيء واجتنبوا السواد ١ھ. اسی کے تحت نووی میں ہے ” ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمراۃ بسفرۃ او حمرۃ ويحرم خضابہ بالسواد على الاصح ١ھ.(مسلم جلد دوم صفحہ ١٩٩) وعن الامام ان الخضاب حسن لكن بالحناء والكتم والوسمۃ واراد به اللحيۃ وشعر الراس ١ھ. (کتاب الکراھیۃ الباب العشرون فی الزینۃ واتخاذ الخادم للخدمۃ جلد 5 صفحہ ٣٩٥) ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ ١٦٦ نصف اول میں بھی ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد ابو بکر مصباحی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ