بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1884 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حاملہ عورت سے ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟
حضرت ایک سوال ہے کہ حاملہ عورت سے ہمبستری کرنا کیسا ہے؟ المستفتی محمد افروز اشرفی میرانی یوپی انڈیا۔ الجوابــــ بعون الملک الوھاب- صورت مستفسرہ میں شرعا وضع حمل تک ہمبستری کرنا جائز ہے ۔ ہاں حمل یا حاملہ کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو ڈاکٹر منع کرے تو بچنا چاہئے ۔ احسن الفتاوی المعروف بہ فتاوی خلیلیہ میں ہے :” دوران حمل وضع حمل تک مباشرت شرعاً جائز ہے لیکن اگر ڈاکٹرز منع کردیں یا تکلیف کا خطرہ ہو تو پرہیز کرنا چاہئے۔ (جلد١ صفحہ٥٦٤ كتاب النكاح والطلاق باب المحارم) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ