بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1871 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟
مسئلہ:- از: ذکی اللہ ، جگر ناتھ پور، بستی سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید اور اس کی بیوی ہندہ کے درمیان جھگڑا ہوا تو زید نے ہندہ کو مارا ہندہ نے زید کو گالی دیتے ہوئے مارا اور اس کی داڑھی پکڑ کر نوچ لیا اس پر زید نے کہا کہ اگر میں تجھے رکھوں تو اپنی ماں سے بدکاری کروں۔ کچھ دنوں بعد زید و ہندہ میاں بیوی کی طرح رہنے لگے تو ان کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ زید کا اپنی بیوی ہندہ سے یہ کہنا کہ ” اگر میں تجھ کو رکھوں تو اپنی ماں سے بدکاری کروں” یہ الفاظ طلاق سے نہیں اور نہ ہی عند الشرع قسم ہے ۔ ایسا ہی فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ 186 میں ہے لہٰذا ہندہ پر کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے اور نہ زید پر شرعاً کوئی کفارہ لازم ہوا۔ البتہ جملہ مذکورہ سے زید نے اپنی ماں کی توہین کی ہے جس کے سبب وہ سخت گناہ گار ہوا علانیہ توبہ و استغفار کرے اور ماں اگر زندہ ہے تو اس سے معافی طلب کرے۔ اور داڑھی کی توہین بالاجماع کفر ہے ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد نہم نصف اول صفحہ ۳۰ پر ہے۔ اور داڑھی نوچ لینا یقیناً اس کی توہین ہے لہذا ہندہ سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے اس پر بھی لازم ہے کہ علانیہ توبہ و استغفار کرے اور پھر سے اس کا نکاح پڑھایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ماخوذ : از فتاوی فقیہ ملت
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ