بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1868 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر کہا میں نے تجھ کو طلاق دی ایک دو تین تو کون سی طلاق واقع ہو ہی؟
مسئلہ:- از عبد الرحیم قادری استوی ، پریم نگر ، نئی دہلی۔ سوال :کیا فرماتے ہیں ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی مدخولہ بیوی ہندہ کو آپسی تکرار کے بعد ان الفاظ کو اپنی زبان سے کہا کہ میں نے تجھ کو طلاق دیا ایک دو تین تین۔ اس طرح کے الفاظ اس نے ادا کیے ۔ صورت مسئولہ میں ہندہ پر کونسی طلاق واقع ہوئی ؟نیز بغیر حلالہ کے نکاح کر سکتا ہے کہ نہیں؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں زید کی بیوی ہندہ پر طلاق مغلظہ واقع ہو گئی۔ اب بغیر حلالہ زید ہندہ سے نکاح نہیں کر سکتا۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے .” فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره” (٢ع ١٣) اگر زید ہندہ سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ عدت گزارنے کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح کرے اور وہ ہندہ سے کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے ۔ پھر وہ طلاق دے دے یا مر جائے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد زید کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے ۔ اگر شوہر ثانی نے بغیر ہمبستری طلاق دے دی تو ہندہ کا زید کے ساتھ ہرگز نکاح نہیں ہو سکتا ۔ کما فی حدیث العسیلۃ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ماخوذ از فتاوی فقیہ ملت
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ