بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1866 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کافروں سے سود جائز ہے تو رشوت لینا کیوں جائز نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ کافروں سے سود جائز ہے تو رشوت کیوں جائز نہیں نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ سود لینا دینا مطلقا ناجائز و حرام قطعی ہے "قال اللہ تعالیٰ” احل اللہ البیع وحرم الربوا "اور لوگوں میں جو یہ مشہور ہے کہ کفار سے سود جائز ہے محض جہالت ہے. حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اگر اس قسم کا عقد کیا جائے جو دو مسلمان یا مسلم و ذمی کے مابین ہوتا تو سود ہوتا اس کافر حربی سے یہ عقد سودنہیں. حدیث شریف میں ہے” لا ربوا بین المسلم والحربی فی فی دار الحرب ” بظاہر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ربوا ہے اور جائز ہے یہ ان کی غلطی ہے. قرآن مجید میں مطلق وارد کہ"حرم الربوا " تو ربوا حلال کیوں کر ہو سکتا ہے. بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ سود ہی نہیں جس کے لیے حرمت ہو اس واسطے حدیث شریف میں "لا ربوا” فرمایا کہ یہ سود ہی نہیں نہ یہ "یجوز الربوا” کہ سود تو ہے مگر جائز ہے. اور خود صاحب مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ یہ سود نہیں. (فتاویٰ امجدیہ جلد 3 صفحہ 214) سود کے نام پر غیر مسلم نے جو مال دیا وہ چونکہ سود ہے اور نہ اس میں بد عہدی ہے اس لیے جائز ہے مگر رشوت میں قانون کی خلاف ورزی بھی ہے اور بدعہدی بھی لوگ اسے جرم جانتے بھی ہیں اس لیے حرام وہ گناہ ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد شمس الدین احمد علیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ