بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1851 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بھائی کا یہ بیان کہ بہنوئی نے بہن کو طلاق دی ہے طلاق ثابت ہوگی کہ نہیں ؟
مسئلہ:- از : محمد ابراہیم، نیوری چورہا، امبیڈکر نگر۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ بکر کا بیان ہے کہ زید نے میری بہن ہندہ کے بارے میں ٹیلیفون پر مجھ سے یہ کہا کہ طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق طلاق طلاق اور بکر کا یہ بھی بیان ہے کہ زید اب انکار کرتا ہے جب کہ اس کے باپ نے اقرار کیا تھا کہ ایک بار طلاق ہندہ سے نہیں کہا بلکہ تم سے کہا ۔ تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ پر طلاق پڑی یا نہیں ؟ اور اب ہندہ کو زید کے پاس جانے میں عزت و جان کا خطرہ ہے تو کیا وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے ؟ بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــــ بکر کے اس بیان سے طلاق ثابت نہیں ہوگی۔ زید نے اپنی بیوی ہندہ کے بارے میں بذریعہ ٹیلیفون یہ کہا کی طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق طلاق طلاق اور اس بیان سے بھی زید کے باپ نے اقرار کیا کہ ایک بار طلاق ہندہ سے نہیں کہا بلکہ تم سے کہا۔ اس لیے کی طلاق یا تو شوہر کے اقرار سے ثابت ہوگی یا دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتیں عادل ثقہ کی گواہیوں سے اور صورت مسؤلہ میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتی ہیں ۔ لہذا ہندہ پر وقوع طلاق کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ تفسیرات احمدیہ مطبوعہ رحیمیہ صفحہ ۱۳۵ میں ہے :” في غير الحدود والقصاص إن كان مما يطلع عليه الرجل يقبل بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين سواء كان مالا أو غير مال عندنا . اھ " اگر ہندہ کو زید کے پاس جانے میں عزت و جان کا خطرہ ہے تو وہ کسی طرح اس سے طلاق حاصل کرے۔ طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح ہرگز نہیں کر سکتی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔۔ الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی۔ کتبـــــــــــــــــــہ : محمد ابرار احمد امجدی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ