بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1846 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مخنث جانورکی قربانی وعقیقہ جائز نہیں
اگربکروں میں کوئی مخنث ہو تو اس کا عقیقہ ہوسکتا ہے یانہیں؟ الجواب بعون الملک الوھاب خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی اور عقیقہ جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا فتاوٰی عالمگیری میں ہے:” لاتجوز التضحیۃ بالشاۃ الخنثٰی لان لحمہا لاینضج، کذا فی القنیۃ " اھ (ج٥ ص٣٦٩ کتاب الاضحیۃ، باب بیان محل اقامۃ الواجب، دار الکتب العلمیۃ) درمختار مع رد المحتار میں ہے:” ولا بالخنثی لان لحمها لاینضج، شرح وہبانیة " اھ (ج٩ ص٤٧٠ کتاب الاضحیۃ، دارعالم الکتب) یعنی خنثٰی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیوں کہ اس کا گوشت پکتا نہیں۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :” خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتا ہو، دونوں سے یکساں پیشاب آتا ہو، کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتا ہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا "اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ٢٠ ص٢٥٥/٢٥٦ کتاب الذبائح) اور جن جانوروں کی قربانی نہیں ہوسکتی ان کا عقیقہ بھی نہیں ہوسکتا بہار شریعت میں ہے :” عقیقہ کا جانور اونھیں شرائط کے ساتھ ہونا چاہئے جیسا قربانی کے لئے ہوتا ہے ” اھ ( حصہ ١٥ عقیقہ کابیان ج٣ ص٣٥٧) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ