بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1845 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
داڑھی زیادہ سے زیادہ کتنی لمبی رکھ سکتے ہیں؟
سوال : داڑھی کی حد کم سے کم ایک مشت ہے لیکن زیادہ سے زیادہ کی کیا حد ہے ? جواب عنایت فرمائیں؟ المستفتی : مولانا حسرت گورڈیہہ سدھارتھ نگر یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب داڑھی زیادہ سے زیادہ ایک مشت رکھنی چاہئے کہ یہی سنت ہے اس سے کچھ زیادہ ہو کہ سینہ تک پہنچ جائے تو حرج نہیں ہاں طول فاحش مکروہ تحریمی ہے۔ ردالمحتار علی الدر المختار :” والسنۃ فیہا القبضۃ وھو ان یقبض الرجل لحیتہ فمازاد منھا علی قبضۃ قطعہ ۔ روی الطبرانی عن ابن عباس رفعہ من سعادۃ المرأ خفۃ لحیتہ واشتھر ان طول اللحیۃ دلیل علی خفۃ العقل "اھ ملخصا (ج٩ ص٥٨٣ کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، دارعالم الکتب) حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:” داڑھی ایک مشت رکھنا ضروری ہے ایک مشت سے کم کرنا درست نہیں اور ایک مشت سے اگر کچھ زیادہ ہو کہ سینہ تک پہنچ جائے جب بھی حرج نہیں مگر اس کا طوال فاحش مکروہ ہے "اھ ( فتاوی امجدیہ ج٤ ص١٩٤ کتاب الحظر والاباحۃ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ