لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

سکہ کا تبادلہ نوٹ سے کمی بیشی کے ساتھ کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سکہ کا تبادلہ نوٹ سے کمی بیشی کے ساتھ کیسا ہے؟

سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ آج کل بازاروں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ مثلا سو روپے کا چلر یعنی سکہ دے کر ایک سو دس یا پانچ روپے کا نوٹ لیتے ہیں تو سکہ کا تبادلہ نوٹ سے زیادتی کے ساتھ ہوتا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے بہرحال یہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ آج کل بازاروں میں جو طریقہ رائج ہے کہ سکہ کا تبادلہ نوٹ سے کمی زیادتی کے ساتھ کرتے ہیں یہ جائز ہے بلکہ ادھار بھی جائز ہے کہ سود نہیں. یہ دونوں دو جنس سے ہیں اور جب جنس مختلف ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ نقد ادھار دونوں طرح فروخت کرنا جائز ہے. درِ مختار میں ہے : وان عدماحل كهرووی بمرویین لعدم العله فبقى على اصل الاباحۃ(ص ١٧٢ جلد ٥ باب الربوا) فتاویٰ رضویہ میں ہے "نص علماءنا قاطبۃ ان حرمۃ القدر علۃ الربوا القدر المعهود بکیل او وزن مع الجنس فان وجد احرم الفضل والنساء وان عدم حل وان وجد احدهما حل الفضل وحرم النساء. والله تعالى اعلم الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ :مفتی محمد احمد قادری مصباحی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات