صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1839 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 10,208

سوال (Question):

پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ پٹاخہ اور راکھی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــ پٹاخہ اور راکھی کی تجارت جائز نہیں کہ آتش بازی حرام ہے کہ یہ گناہ پر مدد ہے جو حرام ہے. اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے “ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان” اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں : افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہیں ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر اعانت اور مدد ہے (جلد 16 صفحہ 106) اور راکھی کا استعمال صرف رکشھا بندھن کے لئے ہوتا ہے جو یہاں کے غیر مسلموں کا مذہبی شعار ہے تو راکھی کی تجارت بھی گناہ پر اعانت ہوئی اس لیے یہ تجارت بھی ناجائز ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبـــــــــــــہ : مفتی فیاض احمد برکاتی مصباحی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat