لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنا کیسا ہے؟

سوال:- بد مذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست کی جائز وناجائز صورتوں کا حکم کیا ہے؟ الجواب بعون الملك الوهاب: بد مذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست اگر بربنائے ضرورت،بقدر ضرورت ہو اور الفت ومحبت اور دوستی کے ساتھ نہ ہو اور اس نشست وبرخاست سے بدمذہبوں کی تعظیم وتکریم مقصود نہ ہو، اور نہ ہی اس سے اپنے دین ومذہب کا نقصان ہو اور نہ ہی اپنے دین ومذہب میں کسی طرح کی کمزوری آنے پائے تو ان شرطوں کے ساتھ بدمذہبوں اورمرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست جائز ہے اور اگر مذکورہ شرطیں نہ پائی جائیں تو ان کے ساتھ نشست وبرخاست ناجائز وحرام ہے،ہاں اگر بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست نہ رکھنے کی وجہ سے جبرواکراہ کا صحیح اندیشہ ہو اور یہ شخص مجبور ہوجائے تو بھی اجازت ورخصت ہے- فتاوی رضویہ میں ہے "اور اگر مجلس اور میل جول بربنائے ضرورت بقدر ضرورت بغیر دوستی اور انس ومحبت کے بلا تعظیم وتکریم اور بغیر دینی نقصان یا کمزوری کے ہو تو اس کی اجازت اور رخصت ہے،بصورت دیگر میل جول اور مجلس بھی حرام ہے ہاں اگر کوئی فریق مخالف کے جبر واکراہ کے باعث مجبور ہوجائے تو وہ مستثنی ہے”(ج ۲۱ ص ۱۲۵ تا ۱۲۶/مترجم) اور فتاوی مصطفویہ میں ہے "مسلمان ایسوں سے قطع تعلق اور ان کا حقہ پانی بند کر سکتے ہیں-اگر ان کی شرارتوں سے فتنہ کا خوف کرتے ہیں تو معذور ہیں جب وقت حاجت یہاں تک رخصت دی گئی ہے تو ایسے لوگ جو مرتدین سے میل جول ہی رکھتے ہوں ان کے فتنہ کے اندیشہ سے بھی رخصت بدرجہ اولی ہوگی،ملتقطا”(ص ۴۷۷)والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدارالعلوم العلیمیہ الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات