لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

تعویذ پہننا کیسا ہے؟ از مفتی منظور القادری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

تعویذ پہننا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ تمامی حضرات سے ایک سوال ہے کہ تعویذ پہننا کیسا ہے؟ حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں بہت بہت مہربانی ہوگی۔ سائل محمد سرفراز وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بتوفیق الملک الوھاب  صورت مسئولہ میں اہلسنت کے نزدیک آیات قرآنیہ، اسماۓ الہیہ اوردعائیہ کلمات کے تعویذات پہننا جائز ہے ۔ جیسا کہ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں "گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے، جبکہ وہ تعویذ جائز ہو یعنی آیات قرآنیہ یا اسماء الہیہ (اللہ پاک کے ناموں) یا ادعیہ (دعاؤں) سے تعویذ کیا جائے اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے، اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں، جو زمانۂ جاہلیت میں کۓ جاتے تھے، اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ کو رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شفا پلانا بھی جائز ہے۔ جنب و حائض و نفسا بھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں، بازو پر باندھ سکتے ہیں جبکہ غلاف میں ہوں۔ (بہارشریعت جلد ٣، حصہ، ١٦ ،صفحہ ٦٥٢، متفرقات کا بیان،مطبوعہ دعوت اسلامی) اور اعلی حضرت عظیم البرکت مجددین وملت الشاہ امام احمدرضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان ُ "فتاوی افریقہ” میں تحریر فرماتے ہیں، "جائز تعویذ کہ قران کریم یا اسمائے الہیہ (یعنی اللہ تعالی کے ناموں) یا دیگر اذکار و دعوات (دعاؤں) سے ہو اس میں اصلا حرج نہیں بلکہ مستحب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ایسے ہی مقام میں فرمایا کہ "من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ” یعنی تم میں جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچا سکے (تو اسے نفع) پہنچائے۔ (فتاوی افریقہ صفحہ،١٥١) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب کتبـــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات