بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1826 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
علمائے دین کی توہین کرنے کا حکم
سوال:- علمائے دین کی توہین کب کفر ہے کب کفر نہیں؟ الجواب بعون الملك الوهاب: مطلقا علمائے دین کی توہین یا کسی عالم کی عالم دین ہونے کی وجہ سے توہین صریح کفر ہے اور اگر عالم دین کی بوجہ علم عزت کرتا ہے مگر دنیوی معاملات کے سبب گالی دیتا ہے یا برا کہتا ہے تو سخت فاسق وفاجر ہے اور اگر بے سبب عالم دین سے بغض رکھتا ہے تو وہ دل کا مریض ہے اور اس کے کافر ہونے کا اندیشہ ہے- فتاوی رضویہ میں ہے ۔ "اور مطلقا علمائے دین یا کسی عالم دین کو ان کے عالم ہونے کے سبب برا کہنا یا شریعت مطہرہ کی ادنی توہین کرنا یہ تو یقینا قطعا کفر وارتداد ہے”(ج۱۴ ص۵۷۰ مترجم) نیز فتاوی رضویہ میں ہے ۔ "پھر اگر عالم کو اس لیے برا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتا ہے گالی دیتا ہے تحقیر کرتا ہے تو سخت فاسق فاجر ہے اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے”(ج۹ ص۱۴۰ نصف اول) اور فتاوی امجدیہ میں ہے ۔ "علما کی توہین بحثیت علم کفر ہے”(ج۴ص۴۵۴) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدارالعلوم العلیمیہ الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ