دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1822
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مسافر مقیم کی اقتدا میں کس طرح نیت کرے گا ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,904
سوال (Question):
مسافر مقیم کی اقتدا میں کس طرح نیت کرے گا ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مسافر مقیم کی اقتدا میں کس طرح نیت کرے گا ؟
مسافر مقتدی اگر مقیم کی اقتدا میں چار رکعت فرض نماز پڑھے تو کتنی رکعت کی نیت کرے گا دو یا چار کی؟ سائل : محمد نظام الدین بلرام پور الجواب بعون الملک الوھاب مذکورہ صورت میں مقتدی چار رکعت فرض کی نیت کرے گا، کیوں کہ مقیم کی اقتدا کی وجہ سے اس پر بھی چار رکعتیں فرض ہوگئیں، لہٰذا وہ چار ہی کی نیت کرے گا. بہار شریعت میں ہے: وقت ختم ہونے کے بعد مسافر مقیم کی اقتدا نہیں کر سکتا وقت میں کر سکتا ہے اور اس صورت میں مسافر کے فرض بھی چار ہوگئے یہ حکم چار رکعتی نماز کا ہے اور جن نمازوں میں قصر نہیں ان میں وقت و بعد وقت دونوں صورتوں میں اقتدا کرسکتا ہے وقت میں اقتدا کی تھی نماز پوری کرنے سے پہلے وقت ختم ہوگیا جب بھی اقتدا صحیح ہے۔ (ح چہارم ص ٧٥٤ مسافر کی نماز کا بیان) اور اگر چاہے تو اس وقت کے فرضِ کی نیت کرے، نیت میں تعداد رکعات معین کرنا ضروری نہیں. فتاوی شامی میں ہے : “وَلَا بُدَّ مِنْ التَّعْيِينِ عِنْدَ النِّيَّةِ) ۔ (لِفَرْضٍ) أَنَّهُ ظُهْرٌ أَوْ عَصْرٌ ۔ (وَوَاجِبٍ) أَنَّهُ وِتْرٌ أَوْ نَذْرٌ ۔ (دُونَ) تَعْيِينِ (عَدَدِ رَكَعَاتِهِ) لِحُصُولِهَا ضِمْنًا، فَلَا يَضُرُّ الْخَطَأُ فِي عَدَدِهَا”. (ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة ١/ ٤١٨–٤٢٠) واللہ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٨ رجب ١٤٤٣/ ٢٠ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat