دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1818
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,480
سوال (Question):
خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اگر کوئی شخص خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟
سوال:- لفظ خاتم النبیین میں”تاء”کے زبر کے ساتھ درست ہے یا زیر کے ساتھ اگر کوئی خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو شرعا کیا قباحت ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب لفظ خاتم امام عاصم رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک “تاء”کے زبر کے ساتھ ہے اور ان کے علاوہ قراء کے نزدیک”تاء”کے زیر کے ساتھ ہے،بہر صورت ائمہ قراءت کے نزدیک معنی”آخری”ہی ہے لہذا”تاء”کے زبروزیر دونوں کے ساتھ درست ہے ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے “والمقصود أنه يفهم من الآية ختم النبوة على نبينا عليه السلام لأن الخاتم بفتح التاء عند عاصم،وبكسر التاء عند غيره،وعلى الاول من الختام الذى يختم به الباب،وانما يطلق ههنا على النبى لانه يختم به أبواب النبوت ويغلق الى يوم القيامةوعلى الثانى يكون منه أيضا،أي يختم النبيين ويفعل الختم وتقوية قراءة ابن مسعود لكن نبينا ختم النبيين،او بمعنى الآخر،فثبت المدعى.والاول راي صاحب الكشاف،والآخیر راي الامام الزاهد،والمآل على كل توجيه هو معنى الآخير،ولذلك فسر صاحب المدارك قراءة عاصم بالآخر،وصاحب البيضاوي كلا القراءتين بالآخر”(ص۶۰۶) اور خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہے اس پر پوری امت مسلمہ کا اجماع ہے ، المعتقد المنتقد مع المعتمدالمستند میں ہے : “قال النابلسي فى شرح الفوائد:وفساد مذهبهم غنى عن البيان،بشهادة العيان،كيف وهو يؤدي الى تجويز نبى مع نبينا عليه السلام أو بعده،وذلك يستلزم تكذيب القرآن،اذ قد نص على أنه خاتم النبيين،وآخر المرسلين وفى السنة”انا العاقب لانبي بعدى”واجمعت الامةعلى ابقاء هذا الكلام على ظاهره،وهذه احدى المسائل المشهورة التي كفرنا بها الفلاسفة لعنهم الله تعالى”(۱۰۷) اور المعجم الوسیط میں ہے “والخاتم من كل شیئ آخره.وفى التنزيل العزيز:ولكن رسول الله وخاتم النبيين”(ص۲۲۶) اگر کوئی شخص خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہ لیکر نبیوں پر مہر لگانے والا لے تو اس نے اجماع کی مخالفت کی اور امر اجماعی کی مخالفت کفر ہے لہذا ایسا شخص کافر ہے ۔ فتاوی رضویہ میں شرح المواقف کے حوالے سے ہے ۔ “كون الاجماع حجة قطعية معلوم بالضرورة من الدين” اور اصول البزدوی کے حوالے سے ہے “فصار الاجماع كآية من الكتاب أو حديث متواتر فى وجوب العمل والعلم به فيكفر جاحده فى الاصل” اعلحضرت امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں۔ “آئمہ کرام وعلمائے اعلام حجیت اجماع کو ضروریات دین سے بتاتے اور مخالف اجماع قطعی کو کفر ٹھراتے ہیں”(فتاوی رضویہ ج ۱۴ ص ۲۸۸ مترجم) اور اعلحضرت امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ کشف الاسرار شرح المنار کے حوالے سے فرماتے ہیں: “يكفر جاحده كما يكفر جاحد ما ثبت بالكتاب اوالمتواتر”(حوالہ سابق ص ۲۹۰) اور علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمه الله تعالى فرماتے ہیں: “حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اور تمام صحابہ کرام نے بلکہ پوری امت نے”خاتم النبیین”کا معنی صرف آخر الانبیا بتایا-وہ بھی اس قید کے ساتھ کہ اس میں نہ تو کسی تاویل کی گنجائش ہے نہ کسی تخصیص کی-اگر کوئی کسی قسم کی تاویل یا تخصیص کرے تو کافر ہے جس پر احادیث کریمہ اور ارشادات سلف وحلف نص جلی ہیں”(منصفانہ جائزہ ص۵۷) واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامى بدار العلوم العلیمیہ۔ الجواب صحیح:محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat