دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1815
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,964
سوال (Question):
عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟
سوال : والدہ اگر اپنی حیات میں شرعاً وصیت کرنا چاہے تو کس طرح وصیت کرے ۔ اور وفات کے بعد جس کے نام وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کیا جائے گا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــ اگر کوئی عورت اپنی زندگی میں کسی کے لیے وصیت کرنا چاہے تو کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ وصیّت تہائی مال کی ہو اور وہ کسی وارث کے لئے نہ ہو تو یہ جائز ہے ورنہ نہیں. ہدایہ آخرین میں صفحہ 654 پر ہے “لا تجوز بما زاد علی الثلث ١ھ. اور لا تجوز لوارثہ. ” ١ھ. اسی میں صفحہ 607 پر ہے لقولہ علیہ السلام” لا وصیۃ لوارث ” اگر کوئی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کر دے تو بھی وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہوگی البتہ عاقل بالغ ورثہ مرنے کے بعد تہائی مال سے زیادہ کی اجازت دے دیں تو جائز ہے. عالمگیری جلد 6 صفحہ ٩٠ پر ہے “لا تجوز بما زاد علی الثلث الا ان یجیزہ الورثۃ بعد موتہ وھم کبار ١ھ. البتہ وصیت میراث پر مقدم ہے اسلئے پہلے وصیت کی ادائیگی کی جائے گی پھر ما بقیہ مال ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا. درمختار جلد 6 صفحہ 760 پر ہے ” تقدم وصیتہ من ثلث ما بقی ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ١ھ. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد اجمل حسین بلرام پوری
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat