بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1815 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟
سوال : والدہ اگر اپنی حیات میں شرعاً وصیت کرنا چاہے تو کس طرح وصیت کرے ۔ اور وفات کے بعد جس کے نام وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کیا جائے گا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــ اگر کوئی عورت اپنی زندگی میں کسی کے لیے وصیت کرنا چاہے تو کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ وصیّت تہائی مال کی ہو اور وہ کسی وارث کے لئے نہ ہو تو یہ جائز ہے ورنہ نہیں. ہدایہ آخرین میں صفحہ 654 پر ہے "لا تجوز بما زاد علی الثلث ١ھ. اور لا تجوز لوارثہ. ” ١ھ. اسی میں صفحہ 607 پر ہے لقولہ علیہ السلام” لا وصیۃ لوارث ” اگر کوئی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کر دے تو بھی وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہوگی البتہ عاقل بالغ ورثہ مرنے کے بعد تہائی مال سے زیادہ کی اجازت دے دیں تو جائز ہے. عالمگیری جلد 6 صفحہ ٩٠ پر ہے "لا تجوز بما زاد علی الثلث الا ان یجیزہ الورثۃ بعد موتہ وھم کبار ١ھ. البتہ وصیت میراث پر مقدم ہے اسلئے پہلے وصیت کی ادائیگی کی جائے گی پھر ما بقیہ مال ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا. درمختار جلد 6 صفحہ 760 پر ہے ” تقدم وصیتہ من ثلث ما بقی ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ١ھ. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد اجمل حسین بلرام پوری
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ