دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1814
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
آنکھ و گردہ بینک کو دینے کی وصیت کرنا کیسا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,858
سوال (Question):
آنکھ و گردہ بینک کو دینے کی وصیت کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
آنکھ و گردہ بینک کو دینے کی وصیت کرنا کیسا ہے؟
سوال : بکر اپنی زندگی ہی میں یہ وصیت کر جاتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی آنکھیں یا گردہ آنکھ بینک اور گردہ بینک کو تحفتہ عنایت کر دیں کیونکہ وہ اور کسی ضرورت مند کو جس کی آنکھ چلی گئی اور گردہ فیل ہو گیا ہوں کام آئے اور وہ ثواب ٹھہر ے تو کیا ازروئے شرع ایسا کر سکتے ہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ بکر کا اپنی زندگی میں اس طرح کی وصیت کرنا اور بعد موت اس کی وصیت کے مطابق اس کی آنکھیں یاگردہ یا کسی دوسرے عضو کو نکالنا درست نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا انسانی عظمت و تکریم کے خلاف ہے. جب کہ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو تمام مخلوقات سے افضل و اکرم بنایا ہے ۔ قرآن کریم میں ہے ” وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا” اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات سے افضل کیا (سورہ بنی اسرائیل 70) علاوہ ازیں مسلم میت کے کسی عضو کو نکالنے میں اسے ایذاء وتکلیف پہنچانا ہے جو ناجائز و حرام ہے. حدیث شریف میں ہے ” من آذی مسلمان فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ” (کنزالعمال جلد 16 صفحہ 10 حدیث نمبر 43 ہزار 703) واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی علیمی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat