لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

آنکھ و گردہ بینک کو دینے کی وصیت کرنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

آنکھ و گردہ بینک کو دینے کی وصیت کرنا کیسا ہے؟

سوال : بکر اپنی زندگی ہی میں یہ وصیت کر جاتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی آنکھیں یا گردہ آنکھ بینک اور گردہ بینک کو تحفتہ عنایت کر دیں کیونکہ وہ اور کسی ضرورت مند کو جس کی آنکھ چلی گئی اور گردہ فیل ہو گیا ہوں کام آئے اور وہ ثواب ٹھہر ے تو کیا ازروئے شرع ایسا کر سکتے ہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ بکر کا اپنی زندگی میں اس طرح کی وصیت کرنا اور بعد موت اس کی وصیت کے مطابق اس کی آنکھیں یاگردہ یا کسی دوسرے عضو کو نکالنا درست نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا انسانی عظمت و تکریم کے خلاف ہے. جب کہ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو تمام مخلوقات سے افضل و اکرم بنایا ہے ۔ قرآن کریم میں ہے ” وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا” اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات سے افضل کیا (سورہ بنی اسرائیل 70) علاوہ ازیں مسلم میت کے کسی عضو کو نکالنے میں اسے ایذاء وتکلیف پہنچانا ہے جو ناجائز و حرام ہے. حدیث شریف میں ہے ” من آذی مسلمان فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ” (کنزالعمال جلد 16 صفحہ 10 حدیث نمبر 43 ہزار 703) واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی علیمی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات