لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

روزہ افطار کی دعا کا وقت کیا ہے؟ | کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

روزہ افطار کی دعا کا وقت کیا ہے؟ کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے؟

سوال:- روزہ افطار کی دعا کا وقت کیا ہے اور کن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب روزہ افطار کی دعا کا وقت افطار کرنے کے بعد ہے ۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے : "مقتضائے دلیل یہ ہے کہ یہ دعا روزہ افطار کرکے پڑھے”(ج ۴ ص ۶۵۳) اور عیدین اور ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے- جیساکہ مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوى میں ہے : "والثانى الذي كره تحريما صوم العيدين الفطر والنحر للاعراض عن ضيافة الله ومخالفة الأمر ومنه صوم أيام التشريق لورود النهي عن صيامها”(حاشية الطحطاوى ص ۶۴۰) اور مجمع الأنهر میں ہے ۔ "وصوم العيدين وأيام التشريق حرام لورود النهى عن الصيام في هذه الأيام”(ج ۱ ص ۳۴۳) والله تعالى أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات