دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1811
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,540
سوال (Question):
جس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟
سوال:- جس شخص پر حج فرض ہو مگر اس نے ابھی حج نہ کیا اس سے حج بدل کرانا کیا ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب جس شخص پر حج فرض ہو اور اس نے ابھی حج ادا نہ کیا ہو تو ایسے شخص سے حج بدل کرانا مکروہ تحریمی ہے ۔ بحر الرائق میں ہے ۔ “أنه يجوز احجاج الصرورة وهو الذى لم يحج أولا عن نفسه لكنه مكروه كما صرحوا به-واختار فى فتح القدير أنها كراهة تحريم للنهى الوارد فى ذالك”(ج ۳ ص ۱۲۲ تا ۱۲۳) اور نھر الفائق میں ہے ۔ “فيكره احجاج المرأة-والصرورة لأنه تارك فرض ،ملتقطا”(ج ۲ ص ۱۶۴) اور فتاوی رضویہ میں ہے “اور اگر خود ان پر حج فرض ہولیا ہو تو یہ دوسرے کی طرف سے حج کرنے سے گنہگار ہوں گے مگر حج جس کی طرف سے کریں گے ادا ہوجائے گا ان پر گناہ رہے گا اور ایسی صورت میں ان سے حج غیر کرانا بھی مکروہ ہے کہ ایک گناہ کا حکم دینا ہے زیادہ حد ادب”(ج ۴ ص ۶۶۳) والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat