لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

جس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جس نے حج فرض ادا نہ کیا ہو اس سے حج بدل کرانا کیسا ہے؟

سوال:- جس شخص پر حج فرض ہو مگر اس نے ابھی حج نہ کیا اس سے حج بدل کرانا کیا ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب جس شخص پر حج فرض ہو اور اس نے ابھی حج ادا نہ کیا ہو تو ایسے شخص سے حج بدل کرانا مکروہ تحریمی ہے ۔ بحر الرائق میں ہے ۔ "أنه يجوز احجاج الصرورة وهو الذى لم يحج أولا عن نفسه لكنه مكروه كما صرحوا به-واختار فى فتح القدير أنها كراهة تحريم للنهى الوارد فى ذالك”(ج ۳ ص ۱۲۲ تا ۱۲۳) اور نھر الفائق میں ہے ۔ "فيكره احجاج المرأة-والصرورة لأنه تارك فرض ،ملتقطا”(ج ۲ ص ۱۶۴) اور فتاوی رضویہ میں ہے "اور اگر خود ان پر حج فرض ہولیا ہو تو یہ دوسرے کی طرف سے حج کرنے سے گنہگار ہوں گے مگر حج جس کی طرف سے کریں گے ادا ہوجائے گا ان پر گناہ رہے گا اور ایسی صورت میں ان سے حج غیر کرانا بھی مکروہ ہے کہ ایک گناہ کا حکم دینا ہے زیادہ حد ادب”(ج ۴ ص ۶۶۳) والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات