بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1809 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورت کا انتقال ہوا اس نے شوہر بیٹی اور چچا کو چھوڑا
الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين بیٹی کی موجودگی میں شوہر ربع [١/٤] کا مستحق ہے . "فاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ” (سورہ نساء ، آیت ۱۲) (ترجمہ: پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارے لیے چوتھائی ہے.) بیٹی اکیلی ہونے کی صورت میں نصف کی مستحق ہے. "وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۱) (ترجمہ : اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا ہے) اور چچا عصبہ ہوگا. کل ترکہ کو ٤ حصوں میں تقسیم کریں گے ١ حصہ شوہر کو ، ٢بیٹی کو ، اور باقی ١ چچا کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ