بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1808 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کا حصہ ربع [١/٤] ہے،ارشادہے ” وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۲) اور تمہارے ترکہ میں بیویوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو. ماں کا حصہ بطورِ فرض ثلث مابقی [١/٣] ہے،یعنی بیوی کو دینے کے بعد جو بچے گا اس کا ثلث ماں کو ملے گا، الله کا فرمان ہے "فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۱) (ترجمہ: پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی حصہ ہے.) بہار شریعت میں ہے : اگر ماں کے ساتھ شوہر اور بیوی میں سے بھی کوئی ایک ہو تو پہلے شوہر یا بیوی کا حصہ دیا جائے گا پھرجو بچے گا اس میں سے ایک تہائی ماں کو دیا جائے گا۔(ح بستم ،ص ١١٣٤) اور باپ یہاں عصبہ محض ہوگا. کل ترکہ کو ١٢حصوں میں تقسیم کرکے ٣ حصہ بیوی کو دیں گے ، باقی ماندہ ترکہ ٩ سے ایک تہائی یعنی ٣ حصہ ماں کو دیں گے ، پھر بقیہ ٦ حصہ باپ کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ