لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

معلمہ حیض و نفاس میں قرآن پاک کا ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

معلمہ حیض و نفاس میں قرآن پاک کا ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھا سکتی ہے

سوال : عورت کو شرعی عذر ہو یعنی حیض یا نفاس والی ہو تو قرآن پڑھا سکتی ہے یانہیں ؟ المستفتیہ مدیحہ فاطمہ الجواب بعون الملک الوھاب پڑھا سکتی ہے جبکہ ایک ایک کلمہ سانس توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ بحوالہ حلیہ تحریر فرماتے ہیں: "اذا حاضت المعلمۃ فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ وتقطع بین کلمتین " اھ ( فتاوی رضویہ جدید جلد ١ حصہ ٢ صفحہ١٠٩٢ ، رسالہ ارتفاع الحجب عن وجوہ قرأۃ الجنب) یعنی: جب معلمہ حائض ہو تو اسے چاہئے کہ بچوں کو ایک ایک کلمہ سکھائے اور دوکلموں کے درمیان فصل کردے بہار شریعت میں ہے:” معلمہ کو حیض یانفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر قرآن پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں ” اھ (حصہ٢ صفحہ٣٨٩ کتاب الطہارۃ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبــــــــہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات