بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1798 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شوہر نے کہا تو میری بیوی نہیں تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟
مسئلہ:- از: حاجی عبد الغفار صاحب نوری بابا ، اندور ، ایم۔پی سوال : زید نے اپنی منکوحہ سے کہا تو میری بیوی نہیں ۔ تو اس جملہ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــ یہ جملہ کہ ” تو میری بیوی نہیں ” مذہب مختار پر بالکلیہ الفاظ طلاق سے نہیں ۔ یہاں تک کہ بہ نیت طلاق کہا ہو جب بھی طلاق واقع نہیں ہوگی فتاوی عالمگیری میں ہے :” لو قال توزن من نئ لا یقع وان نوی ۔ ھو المختار کذا فی جواھر الخلاطی ۔اھ ملخصا” (فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحہ ۷۲٦) واللہ تعالیٰ اعلم۔ الجواب الصحیح: جلال الدین احمد الامجدی کتبہ: محمد سمیر الدین حبیبی مصباحی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ