دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1796
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
برباد فصل کے معاوضہ سے متعلق ایک سوال از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,501
سوال (Question):
برباد فصل کے معاوضہ سے متعلق ایک سوال از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
برباد فصل کے معاوضہ سے متعلق ایک سوال
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیانِ شرح اِس بارے میں کہ۔ زید نے بکر کا کھیت لیز پر رکھا تھا یعنی بکر زمین کا مالک ہے زید نے ایک سال بھر کے لئے بکر کو پیسے دے دیئے زید کو اُس میں فائدہ ہو یا نقصان بکر کو اپنی زمین کی قیمت مل گئی ہے , لیکِن زید نے فصل بوئی اور زید کی فصل سردی کی وجہ سے خراب ہو گئی تھی سرکار کی طرف سے،، Goverment،، اُس فصل کا معاوضہ ( رقم ) آیا جو فصل خراب ہو گئی تھی اب اُن معاوضہ پر کس کا حق ہوگا بکر کا یا زید کا ،، زید کا کہنا ہے کہ یہ حق میرا ہوگا اسلئے کہ فصل میں نے بوئی ہے اِس میں جو بھی لاگت لگی تھی میں نے لگائی بیج لگانا اُس میں پانی دینا کٹائی وغیرہ یہ سب لاگت زید نے لگائی تھی، قرآن و حدیث کی روشنی میں جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں المستفتی ،رحمت علی نظامی علیمی ساکن، مندسور مدھیہ پردیش الجوابــــــــــــــــــــــــــ جب زید نے سال بھر کے لیے زمین کرایہ پر لے کر فصل لگائی تھی اور فصل برباد ہوگئی، جس پر گورنمنٹ نے معاوضہ کے نام سے امداد دی تو ظاہر یہ ہے کہ گورنمنٹ نے یہ رقم زید ہی کو دی ہے۔ اب چوں کہ عام طور پر مانا یہی جاتا ہے کہ کھیت کا مالک ہی کھیتی کرتا ہے یا وہ مزدوری دے کر کھیتی کراتا ہے اس لیے گورنمنٹ کی طرف سے اس طرح کی رقم مالکِ زمین کو دی جاتی ہے۔ یا اس کے بینک اکاونٹ میں ڈالی جاتی ہے۔اس لیے ظاہر یہی ہے کہ اس رقم کا حق دار زید ہے اور بکر کا اس رقم کو لے لینا گورنمنٹ کے ساتھ دھوکہ ہے اور شریعتِ طاہرہ کسی کے ساتھ بھی دھوکہ کی اجازت نہیں دیتی۔ مان لیجیے کہ اگر زید بکر کی زمین کو کرایہ پر لے کر کھیتی نہ کرتا اور خود بکر بھی اس زمین میں کھیتی نہ کرتا بلکہ زمین خالی پڑی رہتی تو کیا گورنمنٹ کی طرف سے بکر کو کوئی امداد ملتی؟۔واضح سی بات ہے کہ ایسی صورت میں بکر کو امداد نہ ملتی۔کیوں کہ یہ تو فصل برباد ہونے کا معاوضہ ہے اور وہ بکر نے لگائی تھی اس لیے ظاہر یہی ہے کہ اس معاوضہ کا حق دار بکر ہے۔ ھذا ما ظہر لی واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٠/رجب المرجب ١۴۴٣ھ//٢٢/ فروری٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat