بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1792 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حیض نہ آتا ہو تو عورت عدت کیسے گزارے؟
سوال : ہندہ کو اپنی پوری عمر میں حیض آیا ہی نہیں قدرت خداوندی سے اس کے پاس چار اولادیں ہیں طلاق کے بعد عدت گزارنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــ مدخولہ عورت جس سے صحبت ہو چکی ہو اور اسے حیض نہیں آتا چاہے کسی وجہ سے نہیں آتا اس کی عدت تین مہینہ ہے. لہذا ہندہ اگر بعد طلاق تین مہینہ انتظار کر چکی تو اس کی عدت پوری ہوچکی. قرآن عظیم پارہ 28 سورہ طلاق میں ہے ” وَ اللئ یَىٕسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآىٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍۙ- وَّ اﻼ لَمْ یَحِضْنَؕ – فتاوی قاضی خان میں ہے” لو کانت المطلقۃ صغیرۃ او آیسۃ وھی حرۃ فعدتھا ثلثۃ اشھر " ١ھ. ایسا ہی بہارشریعت حصہ 8 صفحہ 123 میں بھی ہے. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ