صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1784 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

ہنس کر مذاق میں دو بار کہا ” طلاق” تو کیا حکم ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 4,925

سوال (Question):

ہنس کر مذاق میں دو بار کہا " طلاق" تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ہنس کر مذاق میں دو بار کہا ” طلاق” تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ:- از: محمد صدرالدین بلیاوی ، بھیونڈی ، تھانہ ، مہاراشٹر۔ پانچ سال قبل میں اپنی بیوی سے ناراض ہو گیا تو اس نے کہا طلاق دے دو میں نے کہا نہیں ۔ پھر اس نے ہنس کر کہا طلاق دے دو میں نے بھی ہنس کر مذاق میں دو بار کہا طلاق طلاق تو طلاق پڑی یا نہیں؟ میں اس کے ساتھ رہتا ہوں اور ہمبستری بھی ہوتی ہے ایک بچہ ہے جو اس کے پاس ہے اب ہم کو کیا کرنا چاہیے؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں سائل نے اگرچہ ہنسی مذاق میں لفظ طلاق کا استعمال کیا پھر بھی اس کی بیوی پر دو طلاقیں پڑ گئیں۔ درمختار مع الشامی جلد سوم صفحہ ۱٤٢ میں ہے :” بخلاف الهازل واللاعب فإنه يقع قضاء وديانة لأن الشارع جعل هزله به جدا . اه‍ “ اور حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں:” جو اس نے سوال کے جواب میں طلاق طلاق کہا اس سے طلاق ہو جائے گی اگرچہ شوہر کے لفظ میں اضافت نہیں مگر طلاق واقع ہوگی کہ صریح میں اضافت وقوع طلاق کے لیے ضروری نہیں۔ رد المختار میں ہے:” قوله لتركه الإضافة اي المعنوية فإنها الشرط. ” (فتاوی امجدیہ جلد دوم صفحہ ۲۲۸) اور شامی جلد سوم ۲٤٨ پر ہے :” لا یلزم کون الاضافة صريحة في كلامه . اه‍ “ لہذا سائل نے اگر عدت کے اندر ہمبستری کی تھی تو اب نکاح کرنے کی ضرورت نہیں دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں اور اگر گزرنے کے بعد بغیر نکاح کے ہمبستری کی تو دونوں گنہگار ہوئے توبہ کریں۔ اور نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کریں حلالہ کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:” الطلاق مرتن فامساك بمعروف او تسريح باحسان.” (بقرة ، آيت ٢٢٩) البتہ اگر آئندہ کبھی بھی ایک طلاق دے گا تو عورت مغلظہ ہو جائے گی یعنی اس وقت بغیر حلالہ دونوں کا نکاح نہ ہوسکے گا ۔ قرآن مجید میں ہے :” فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” اور بچہ اپنی ماں کے پاس رہے گا لڑکی نو برس کی عمر تک اور لڑکا سات سال کی عمر تک ایسا ہی . ايسا ہی درمختار مع رد المحتار جلد سوم صفحہ ۵٦٦ پر ہے۔ اور اگر سائل نے تین طلاق دی ہے مگر حلالہ سے بچنے کے لیے فریب دے کر دو طلاق کا مسئلہ پوچھ رہا ہے تو وہ زنا کار سخت گنہگار مستحق عذاب نار لائق قہر قہار ہے ۔ مسلمان اس صورت میں اس کا سخت بائیکاٹ کریں ۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے:” وإما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين.” (پ٧ ع ۱٤) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat