دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1783
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مال مرہون کی زکوۃ کس پر ہے؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,886
سوال (Question):
مال مرہون کی زکوۃ کس پر ہے؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مال مرہون کی زکوۃ کس پر ہے؟
سوال:- مال مرہون کی زکوۃ راہن پر ہے یا مرتہن پر؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب مال مرہون کی زکات نہ مرتہن پر ہے نہ راہن پر مرتہن پر اس لیے نہیں کہ وہ مالک نہیں ہے اور راہن پر اس لیے نہیں کہ مال اس کے قبضہ میں نہیں جبکہ وجوب زکات کے لیے ملک اور قبضہ دونوں لازم ہیں ۔ رد المحتار میں ہے “ولا في مرهون أي لا على المرتهن لعدم ملك الرقبة ولا على الراهن لعدم اليد”(ج ۳ ص ۱۸۰) اور فتاوی عالمگیری میں ہے “ولا على الراهن اذا كان الرهن فى يد المرتهن هكذا فى البحر الرائق”(ج ۱ ص ۱۷۲) والله تعالى أعلم کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat