صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1768 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

ہم تمہیں طلاق دیے تھے اس جملہ سے طلاق پڑے گی یا نہیں ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 8,635

سوال (Question):

ہم تمہیں طلاق دیے تھے اس جملہ سے طلاق پڑے گی یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ہم تمہیں طلاق دیے تھے اس جملہ سے طلاق پڑے گی یا نہیں ؟ صریح میں بغیر نیت بھی طلاق پڑ جاتی ہے؟

مسئلہ:- از: علاؤالدین خان، خلیل آباد، کبیر نگر۔ زید کی بیوی نے اس سے طلاق کا بار بار مطالبہ کیا مگر وہ انکار کرتا رہا اپنی والدہ سے بھی کہا کہ میں ہرگز طلاق نہیں دوں گا مگر جب عورت نے طلاق مانگا تو اس نے دو بار کہا ہم تمہیں طلاق دیے تھے پھر گالی دی اور تھوڑی دیر چپ رہا اس کے بعد پھر کہا ہم تمہیں طلاق دیے تھے۔ والدہ کے پوچھنے پر کہا کہ ہم طلاق نہیں دیے ہیں صرف ڈرانے کے لیے کہہ دیا ہے اور ہماری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی سوال یہ ہے کہ اس صورت میں زید کی بیوی پر طلاق پڑی یا نہیں اگر پڑی تو کون سی طلاق۔ زید اگر اس صورت میں بیوی کو رکھنا چاہے تو کیا صورت ہے؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں اگرچہ زید نے پہلے یہ کہا تھا کہ ہم طلاق نہیں دیں گے اور اگر چہ اس نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی اور اگرچہ اس نے بیان دیا کہ ہم طلاق نہیں د ہیں۔ پھر بھی اس کی بیوی پر طلاق مغلظہ پڑ گئی اس لیے کہ ہم تمہیں طلاق دیے تھے صریح ہے اور صریح میں بلا نیت بھی طلاق پڑ جاتی ہے۔ ایسا ہی بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ 10 پر ہے۔ اب بغیر حلال زید کے لئے وہ عورت حلال نہیں ۔ حلالہ کی صورت یہ ہے کہ طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح ہے کرے کہ وہ دوسرے شوہر سے ہمبستری کرنے کے بعد طلاق دے دے یا مر جائے پھر طلاق یا موت کی عدت گزر جانے کے بعد زید سے نکاح جائز ہوگا۔ اس سے پہلے ہرگز نہیں ۔ فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 473 پر ہے :” إن كان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتي تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها كذا في الهدايه.اه‍ ملخصا.” اور شوہر ثانی کی ہمبستری کے بغیر حلالہ صحیح نہ ہوگا۔ کما فی حدیث العسیلۃ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ الجواب الصحیح:- جلال الدین أحمد الامجدی۔ کتبہ:- اشتیاق احمد الرضوی المصباحی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat