بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1768 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ہم تمہیں طلاق دیے تھے اس جملہ سے طلاق پڑے گی یا نہیں ؟ صریح میں بغیر نیت بھی طلاق پڑ جاتی ہے؟
مسئلہ:- از: علاؤالدین خان، خلیل آباد، کبیر نگر۔ زید کی بیوی نے اس سے طلاق کا بار بار مطالبہ کیا مگر وہ انکار کرتا رہا اپنی والدہ سے بھی کہا کہ میں ہرگز طلاق نہیں دوں گا مگر جب عورت نے طلاق مانگا تو اس نے دو بار کہا ہم تمہیں طلاق دیے تھے پھر گالی دی اور تھوڑی دیر چپ رہا اس کے بعد پھر کہا ہم تمہیں طلاق دیے تھے۔ والدہ کے پوچھنے پر کہا کہ ہم طلاق نہیں دیے ہیں صرف ڈرانے کے لیے کہہ دیا ہے اور ہماری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی سوال یہ ہے کہ اس صورت میں زید کی بیوی پر طلاق پڑی یا نہیں اگر پڑی تو کون سی طلاق۔ زید اگر اس صورت میں بیوی کو رکھنا چاہے تو کیا صورت ہے؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں اگرچہ زید نے پہلے یہ کہا تھا کہ ہم طلاق نہیں دیں گے اور اگر چہ اس نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی اور اگرچہ اس نے بیان دیا کہ ہم طلاق نہیں د ہیں۔ پھر بھی اس کی بیوی پر طلاق مغلظہ پڑ گئی اس لیے کہ ہم تمہیں طلاق دیے تھے صریح ہے اور صریح میں بلا نیت بھی طلاق پڑ جاتی ہے۔ ایسا ہی بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ 10 پر ہے۔ اب بغیر حلال زید کے لئے وہ عورت حلال نہیں ۔ حلالہ کی صورت یہ ہے کہ طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت دوسرے سے نکاح صحیح ہے کرے کہ وہ دوسرے شوہر سے ہمبستری کرنے کے بعد طلاق دے دے یا مر جائے پھر طلاق یا موت کی عدت گزر جانے کے بعد زید سے نکاح جائز ہوگا۔ اس سے پہلے ہرگز نہیں ۔ فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 473 پر ہے :” إن كان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتي تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها كذا في الهدايه.اه ملخصا.” اور شوہر ثانی کی ہمبستری کے بغیر حلالہ صحیح نہ ہوگا۔ کما فی حدیث العسیلۃ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ الجواب الصحیح:- جلال الدین أحمد الامجدی۔ کتبہ:- اشتیاق احمد الرضوی المصباحی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ