لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں ؟

سوال:- عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں اور اگر کہے تو کیا حکم ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:- عورت کے لیے اذان کہنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر کہے تو اعادہ کیا جائے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے "وكره أذان المرأة فيعاد ندبا كذا فى الكافى”(ج ۱ ص ۵۴) اور درمختار میں ہے ” ويكره أذان جنب واقامته واقامة محدث لا أذانه على المذهب وأذان امرأة” پھر چند سطر بعد مذکور ہے "وكذا يعاد أذان امرأة ومجنون ومعتوه وسكران وصبي لا يعقل”(ج ۲ ص ۶۰ تا ۶۱) اور تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے "قال رحمه الله :وكره أذان الجنب واقامته واقامة المحدث وأذان المرأة والفاسق والقاعد والسكران، پھر آگے اسی میں ہے "ويعاد أذانها استحبابا لوقوعه لا على الوجه المسنون”(ج ۱ ص ۲۴۹ تا ۲۵۰) کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات