بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1765 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
غیر قاری کے پیچھے قاری کی نماز ہوگی یا نہیں؟
الجوابــــــــــــــــــ جو ما یجوز نہ الصلاۃ قراءت نہ کرتا ہو وہی عند الشرع غیر قاری اور امی ہے ایسے شخص کے پیچھے قاری یعنی ما یجوز نہ الصلاۃ قرات کرنے والے کی نماز نہ ہوگی . فتاوی عالمگیری جلد اول طبع مصر صفحہ 80 میں ہے ” لا یصح اقتداء القاری بالامی کذا فی فتاویٰ قاضی خان واللہ تعالی اعلم ۔ امامت کا حقدار کون ہے ؟ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجـــــــــــدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 325
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ