دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1742
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کہا کاغذ لاؤ میں ابھی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,815
سوال (Question):
کہا کاغذ لاؤ میں ابھی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کہا کاغذ لاؤ میں ابھی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
مسئلہ:- از: مولانا حفیظ اللہ قادری ، کرسیاں ، سدھارتھ نگر سوال : زید نے کہا کہ کاغذ لاؤ میں ابھی میں اپنی بیوی کو طلاق لکھتا ہوں تو اس جملہ سے اس کی بیوی پر طلاق پڑا یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ صورت مذکورہ میں زید کا یہ کہنا کہ :” کاغذ لاؤ میں اپنی بیوی کو ابھی طلاق لکھتا ہوں” سے طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ یہ جملہ الفاظ طلاق سے نہیں ، بلکہ ارادہ طلاق ہے۔ اور ارادہ طلاق سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں :” ارادہ طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ” ( فتاویٰ امجدیہ جلد دوم صفحہ ۲۳٤) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب الجواب الصحیح:- جلال الدین أحمد الامجدی کتبہ:- محمد شبیر احمد مصباحی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat